Thursday, 3 June 2021

گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک

گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک

آنکھوں میں بسے ہیں وہی لمحات ابھی تک

کچھ عشق کی لذت بھی ہے کچھ سوزش دل بھی

تازہ ہیں مِرے دل میں یہ سوغات ابھی تک

کرتی ہوں کبھی جب تری تصویر سے باتیں

کیوں آنکھ سے ہوتی ہے یہ برسات ابھی تک

وہ تیرا تبسم،۔ وہ محبت بھری نظریں

رقصاں ہے لہو میں تری ہر بات ابھی تک

رہنے نہیں دیتا مجھے تنہا وہ تصور💓

زندہ ہے مِرے دل میں تِری ذات ابھی تک

تُو نقش ہے دل پر مِرے تصویر کی صورت

بدلے ہی نہیں ہیں مِرے حالات ابھی تک


صادقہ فاطمی

No comments:

Post a Comment