Thursday, 3 June 2021

دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے

 دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے

آنکھ چاہے کہ وہ بہتا ہوا دریا رکھے

ہم بھی اس شہرِِ تمنا کے ہی سودائی ہیں

خواب سب چھین کے جو روح کو پیاسا رکھے

فن کے بازار میں مقبول ہے کاوِش اس کی

سینچ کر خون سے جو نرخ بھی سستا رکھے

تم بھی کاشف سرِ بازار ٹھہرتے کچھ پل

صورتِ زخم کسی خواب کو افشا رکھے

قاتلِ شہر ہے رعنا، تِرا ہم شکل اگر

تجھ پہ الزام نہ آئے، تجھے مولا رکھے

اس کے وعدے، شبِ ایفا کو پہنچتے ہی نہیں

خواب دکھلائے تو تعبیر سے تشنہ رکھے

حیرتیں، سوز و نوا پر نہ کرو تم، کہ یہ دل

خوش گلو ہے ہی، مگر درد بھی خاصا رکھے

تم نے کاشف وہی سیکھا نہ زمانے میں ہنر

وہ ہنر قد کو جو اوقات سے اونچا رکھے


سید کاشف

No comments:

Post a Comment