قرار جاں
تمہارا لمس اس بے جان ہوتے وجود میں
جان ڈالنے کا واحد ذریعہ ہے
میری آنکھوں کی عمر اتنی کافی ہے
جب تک تمہیں دیکھنے کی سہولت رہے
اس دنیا کے سراب سے اس طرف
میں چاہتی ہوں
وہ آخری چہرہ
جو میری آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے مقید رہنا ہو
تمہارا ہو
اور مرنے سے پہلے، پہلی اور یقیناً آخری بار
میں تمہیں کھو دینے کے کسی بھی خوف کے بغیر
محرم نا محرم کی حد سے پرے
جی بھر کر دیکھوں
اور آنکھیں تمہارا عکس قید کریں
پھر ہمیشہ کے لیے موند دی جائیں
زندگی کی ساری کٹھنائیوں کا
اتنا اجر کافی ہے مجھے
سونیا کانجو
No comments:
Post a Comment