Saturday, 10 September 2022

تمہارا لمس اس بے جان ہوتے وجود میں

 قرار جاں

تمہارا لمس اس بے جان ہوتے وجود میں 

جان ڈالنے کا واحد ذریعہ ہے

میری آنکھوں کی عمر اتنی کافی ہے 

جب تک تمہیں دیکھنے کی سہولت رہے

اس دنیا کے سراب سے اس طرف

میں چاہتی ہوں

وہ آخری چہرہ 

جو میری آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے مقید رہنا ہو

تمہارا ہو

اور مرنے سے پہلے، پہلی اور یقیناً آخری بار

میں تمہیں کھو دینے کے کسی بھی خوف کے بغیر

محرم نا محرم کی حد سے پرے

جی بھر کر دیکھوں

اور آنکھیں تمہارا عکس قید کریں

پھر ہمیشہ کے لیے موند دی جائیں

زندگی کی ساری کٹھنائیوں کا

اتنا اجر کافی ہے مجھے


سونیا کانجو

No comments:

Post a Comment