تہہ مزار کون ہے سر مزار کون تھا
جو قبر گیلی کر گیا وو اشک بار کون تھا
سبھی نے آشکار اپنے آپ کو کیا مگر
نمائشوں کی آڑ میں وہ پردہ دار کون تھا
تمام شہر غرق ہے غبار ہی غبار میں
امیر شہر یے بتا وہ خاکسار کون تھا
وہ قوم ہی عجیب تھی تھے نیم برہنہ سبھی
ندامتیں تھیں کس کے پاس شرمسار کون تھا
مسافروں کا کیا ہوا اے ناخدا! تُو ہی بتا
بھنور کی زد میں کون تھا ندی کے پار کون تھا
مری قضا کے بعد شور و غل تھا اژدھام میں
مداوہ غم کا کر گیا وہ غمگسار کون تھا
جھلک رہی ہیں عظمتیں نواز اس کے تاج میں
جو تاج اس کو دے گیا وہ تاجدار کون تھا
نواز عصیمی
No comments:
Post a Comment