Sunday, 13 March 2022

ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں

 ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں

سکوت رنگ چمن سے ذرا کلام کریں

ہمیں تو کوئی بھی پہچانتا نہیں ہے یہاں

نگاہ کس سے ملائیں کسے سلام کریں

زمانہ اس پہ تلا ہے خرد کی بات رہے

ہمیں یہ ضد ہے کہ اونچا جنوں کا نام کریں

فضا ہے گوش بر آواز چپ ہیں اہل نوا

اب اس ادھوری کہانی کو ہم تمام کریں

تمہارے جام کو پہلے نظر سے چھلکا دیں

پھر اپنے ہوش میں آ کر طواف جام کریں

کسی غزال میں بھی اب نہیں رم وحشت

ہم اپنے سحر تمنا سے کس کو رام کریں

خلوصِ دل کا صلہ سوز آرزو کا گہر

اسی گہر فریدی! چراغ شام کریں


مغیث الدین فریدی

No comments:

Post a Comment