Thursday, 23 December 2021

انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے

 انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے

پھر بھی یہ ادا تیری دلآویز بہت ہے

آشفتہ مزاجی پہ مِری طنز نہ کیجے

اندازِ جہاں بھی تو جنوں خیز بہت ہے

ہم سے وہ ملا ہے تو کھلے دل سے ملا ہے

دنیا کو شکایت ہے،۔ کم آمیز بہت ہے

ہم اس سے جدا ہو کے بھی یوں جھوم رہے ہیں

جیسے کہ یہ لمحہ بھی طرب خیز بہت ہے

اک بار بھی تھرائی نہ لو شمعِ وفا کی

سنتے تھے زمانے کی ہوا تیز بہت ہے

تم ابرِ کرم بن کے ذرا آ کے تو دیکھو

خاکِ دلِ برباد بھی زرخیز بہت ہے

کچھ اور شکایت تو نہیں تیری نظر سے

یہ بات الگ ہے کہ ذرا تیز بہت ہے

اب دیکھیۓ کس رنگ میں یہ شام ڈھلے گی

کچھ گردشِ حالات کی لے تیز بہت ہے


مغیث الدین فریدی

No comments:

Post a Comment