تہِ خاک آہ و فغانِ من، میری ہر صدا پہ دلیل تھی
کہیں بابِ وصلِ خمار تھا، کہیں آہنی سی فصیل تھی
سرِ شام حسرتِ دل جلی، کبھی تِیرہ شب کا فسوں رہا
تیرا نام آس کی مثل تھا، میری تشنگی بھی سبیل تھی
سوئے طور عشق کا تھا سفر، اور اک تجلی کی منزلیں
جسے سن کے ہوش ہوا ہوئے، وہ صدائے ربِ جلیل تھی
میری حُر مزاجی کی شان تھی، تھی وفا کی رمز سے آگہی
مجھے کربلا سے تھیں نسبتیں، میری نسل، نسلِ خلیلؑ تھی
کہیں گلستاں میں مہک بٹی، سرِ فرش برگ خزاں ہوئے
وہ خوشی ہویدا ہوئی کہ جو، میری حسرتوں کی کفیل تھی
تھیں بقائے عشق کی وسعتیں، کہ نہ وحشتوں کا شمار تھا
جسے دار کرنا پڑا مجھے، شبِ آرزوئے طویل تھی
فاطمہ سید
No comments:
Post a Comment