مسیحا
بہت دن سے طبیعت میں
حرارت سی حرارت تھی
بدن یوں ٹوٹتا تھا ہجر کے بیمار کا جیسے
اسے جلتی زمیں پر پھینک کر نوکیلے پتھر سے
کئی ضربیں لگائی ہوں
مسیحا سے کہا، دیکھو
ذرا سی دیر کو آؤ
ہمیں جلتے، سلگتے، ٹوٹتے بیمار لمحے میں
شفا کا لمس دے جاؤ
عجب انداز سے بولا؛
ذرا سا صبر تم کر لو
ذرا سا کرب تو سہہ لو
تمہیں اک دن سنواریں گے
مزے سے دیکھتے جاؤ
تمہیں تو ہم ہی ماریں گے
سباس گل
No comments:
Post a Comment