Thursday, 23 December 2021

تمہیں تو ہم ہی ماریں گے

 مسیحا


بہت دن سے طبیعت میں 

حرارت سی حرارت تھی

بدن یوں ٹوٹتا تھا ہجر کے بیمار کا جیسے

اسے جلتی زمیں پر پھینک کر نوکیلے پتھر سے

کئی ضربیں لگائی ہوں

مسیحا سے کہا، دیکھو

ذرا سی دیر کو آؤ

ہمیں جلتے، سلگتے، ٹوٹتے بیمار لمحے میں

شفا کا لمس دے جاؤ

عجب انداز سے بولا؛

ذرا سا صبر تم کر لو

ذرا سا کرب تو سہہ لو

تمہیں اک دن سنواریں گے

مزے سے دیکھتے جاؤ

تمہیں تو ہم ہی ماریں گے


سباس گل

No comments:

Post a Comment