معلق ہوئی کھسیانی ہنسی
اس سے پہلے
پھول باسی ہو جائیں
وہ
مجھے مرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں
وہ میری میت پہ
مرے ہوئے پھول نہیں ڈالنا چاہتے
مگر مجھ پہ
مرے ہوئے نوحے لکھ لکھ کر
مجھ سے جوڑے رشتے پہ تھوکتے
لعنت بجھتے
کُرلاتی آواز میں بین کرنا چاہتے ہیں
میری ٹکٹکی پہ بندھی زندگی
ان کہی آہنی ضربوں سے
ہمیشہ خونچکاں رہی ہے
لیکن میں نے کبھی
بڑھ کر دروازہ نہیں کھولا
مگر اب
ٹوٹی دیوار میرے کمرے تک آ گئی ہے
تماش بین پونوں میں روٹیاں باندھے
مجھے سنگسار ہوتا دیکھنے کے لیے
جوق در جوق آرہے ہیں
”پانی کے چند گھونٹ ملیں گے”
میں نے قلم نما خنجر پکڑے قاتل سے پوچھا
ابھی کچھ دیر انتظار کرو”
مرنے سے پہلے تمہاری آخری
”خواہش پوری کر دی جائے گی
قاتل نے قلم نما خنجر سے
قصیدہ لکھتے ہوئے کہا
”تم مجھے کب مارنا شروع کرو گے؟”
آغاز ہو چکا ہے”
مکمل بھی مار دیں گے
”مجھے قصیدہ مکمل کرنے دو
قاتل نے قلم نما خنجر
ایک طرف رکھتے کہا
ایک بات تو بتاؤ”
تم کالی سیاہ
زمین کی کوکھ سے پیدا ہو کر
روشن نظمیں کیسے لکھ لیتے ہو؟
اور یہ بھی بتاؤ
”کیسی موت پسند کرو گے؟
میرے اندر”
سمندر کی آخری تہہ کی مچھلیاں ہیں
جن کی آنکھیں نہیں ہوتی
مگر جو تمہارے
اس خنجر کی دھار سے زیادہ
روشن ہوتی ہیں
اور
میں بہت آہستہ آہستہ مرنا چاہتا ہوں
”تاکہ تم کو ہمبا سکوں
میرا جواب سن کر
روٹی سے خالی پونے پکڑے تماش بین
زور دار قہقہے لگانے لگے
مگر
قاتل کے قلم نما نوکدار خنجر پہ
کھسیانی ہنسی معلق ہو کر رہ گئی
مسعود قمر
No comments:
Post a Comment