Thursday, 23 December 2021

تم سے دیکھے نہ گئے ہم سے دکھائے نہ گئے

 تم سے دیکھے نہ گئے ہم سے دکھائے نہ گئے

ہائے وہ زخم جو اس دل سے چھپائے نہ گئے

کر لیا یوں تو ہر اک رنج گوارا، لیکن

آج تک دل سے تِری یاد کے سائے نہ گئے

ہم نے چاہا بھی نہیں ہم نے بھلایا بھی نہیں

دل نے چاہا بھی مگر دل سے بھلائے نہ گئے

راہ پر راہ نکلتی گئی کوچہ سے تِرے

ورنہ اس راہ پہ ہم آپ سے آئے نہ گئے

نقشِ پا بن کے جہاں مٹ بھی گیا نقشِ امید

ہم اسی راہ پہ بیٹھے ہیں، اٹھائے نہ گئے


جاوید کمال رامپوری

No comments:

Post a Comment