تم سے دیکھے نہ گئے ہم سے دکھائے نہ گئے
ہائے وہ زخم جو اس دل سے چھپائے نہ گئے
کر لیا یوں تو ہر اک رنج گوارا، لیکن
آج تک دل سے تِری یاد کے سائے نہ گئے
ہم نے چاہا بھی نہیں ہم نے بھلایا بھی نہیں
دل نے چاہا بھی مگر دل سے بھلائے نہ گئے
راہ پر راہ نکلتی گئی کوچہ سے تِرے
ورنہ اس راہ پہ ہم آپ سے آئے نہ گئے
نقشِ پا بن کے جہاں مٹ بھی گیا نقشِ امید
ہم اسی راہ پہ بیٹھے ہیں، اٹھائے نہ گئے
جاوید کمال رامپوری
No comments:
Post a Comment