Sunday, 6 February 2022

گوری کرت سنگھار

 گوری کرت سنگھار


گوری کرت سنگھار

بال بال موتی چمکائے

روم روم مہکار

گوری کرت سنگھار


مانگ سیندور کی سُندرتا سے

چمکے چندن وار

جوڑے میں جوہی کی بینی

بانہہ میں ہار سنگھار

گوری کرت سنگھار


کان میں جگمگ بالی پتہ

گلے میں جگنو ہار

صندل ایسی پیشانی پر

بندیا لائی بہار

گوری کرت سنگھار


سبز کٹارا سی آنکھوں میں

کجرے کی دو دھار

گالوں کی سُرخی میں جھلکے

ہردے کا اقرار

گوری کرت سنگھار


ہونٹ پہ کچھ پھولوں کی لالی

کچھ ساجن کے کار

کسا ہوا کیسری شلوکا

چُنری دھاری دار

گوری کرت سنگھار


ہاتھوں کی اک اک چُوڑی میں

موہن کی جھنکار

سہج چلے، پھر بھی پائل میں

بولے پی کا پیار

گوری کرت سنگھار


اپنا آپ درپن میں دیکھے

اور شرمائے نار

نار کے رُوپ کو انگ لگائے

دھڑک رہا سنسار

گوری کرت سنگھار


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment