Sunday, 6 February 2022

خیال یار کی انگلی پکڑ لی ہے

 خیالِ یار کی انگلی کسی معصوم جذبے نے پکڑ لی ہے

فصیل عشق کی بنیاد سے آواز یہ آئی

کہ؛ بابا ضد نہیں کرتے

محبت ایسی آوارہ مسافت سے نہیں ملتی

قبیلے چُھوٹ جاتے ہیں

ہم ایسے لوگ تو دراصل چاہت کے کھلونے ہیں

جو اکثر ٹوٹ جاتے ہیں

محبت کے شبستاں میں رہائش کیسے ممکن ہو

کہ ہم محنت کش اہلِ وفا اکثر

کسی زندان کی دیوار میں چُنوائے جاتے ہیں

سنو ہم لوگ تو مجنوں کے وارث ہیں

اگر صحراؤں سے نکلیں تو پھر پتھر کے پھولوں سے

بدن مہکائے جاتے ہیں

فصیل عشق کی بنیاد سے آواز آئی

عشق تیشہ اور سر کا درمیانی فاصلہ ہے

جس کو طے کرنے لگیں تو عمر بھر چلنا بھی کم ہے

اور تھک جائیں تو اک لمحہ بھی کافی ہے


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment