ہوا کی نبض اگرچہ ملنگ پکڑے گا
چراغِ عشق بھی لَو کی اُمنگ پکڑے گا
عبث ہے آبلہ پائی کی رنگ آمیزی
یہ عشق خون کے اشکوں سے رنگ پکڑے گا
میں پھول چُنتا رہا باغ باغ جس کے لیے
خبر کہاں تھی وہ ہاتھوں میں سنگ پکڑے گا
بہ فضلِ عِجز تجھے جذب کی نمو ملے گی
تُو رفتہ رفتہ فقیری کے ڈھنگ پکڑے گا
مکین کوئی نہ ہوگا تمہارے بعد یہاں
مکانِ دل پہ پڑا قُفل زنگ پکڑے گا
تُو مُبتلا ہے جو آزارِ خود نمائی میں
سو آئینہ بھی تجھے انگ انگ پکڑے گا
وہ عہد ایسے محبت میں لے گا مجھ سے حسن
کہ میرے پاؤں کی زنجیر تنگ پکڑے گا
عطاءالحسن
No comments:
Post a Comment