Sunday, 6 February 2022

دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے

 دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے

شبِ فرقت ابھی دو چار پلک باقی ہے

سرخ ہونٹوں کے دیے ذہن میں روشن ہیں ابھی

ابھی افکار میں زلفوں کی مہک باقی ہے

بازوؤں میں تِرے پیکر کی لطافت رقصاں

انگلیوں میں تِری باہوں کی لچک باقی ہے

قصرِ پرویز میں گم ہو گئی شیریں کی صدا

دامن کوہ میں تیشے کی دھمک باقی ہے

صر صر‌ جور نے ہر چند خزاں بکھرائی

پھول میں آگ شگوفوں میں لہک باقی ہے

گل کھلائے گی ابھی اور نہ جانے کیا کیا

یہ جو پہلو میں مہکتی سی کسک باقی ہے


نور بجنوری

No comments:

Post a Comment