Sunday, 6 February 2022

کانچ دل کی شہزادی

 کانچ دل کی شہزادی


بے حسوں کی بستی میں

جانے کیسے آ نکلی

کانچ دل کی شہزادی

ہر طرف ہے سنگ باری

ہر گلی میں شور و غل

تہمتیں لگانے کو

ہر طرف زبانیں ہیں 

اور درد دینے کو

ہر قدم ہے خار و گل

جس طرف کو جاتی ہے

اژدری پذیرائی 

خود کو کیا بچا لے گی

کانچ دل کی شہزادی


عینی زا سید

No comments:

Post a Comment