کانچ دل کی شہزادی
بے حسوں کی بستی میں
جانے کیسے آ نکلی
کانچ دل کی شہزادی
ہر طرف ہے سنگ باری
ہر گلی میں شور و غل
تہمتیں لگانے کو
ہر طرف زبانیں ہیں
اور درد دینے کو
ہر قدم ہے خار و گل
جس طرف کو جاتی ہے
اژدری پذیرائی
خود کو کیا بچا لے گی
کانچ دل کی شہزادی
عینی زا سید
No comments:
Post a Comment