سیاہ رات میں جگنو کی روشنی کی طرح
"مجھے عزیز ہے تُو میری زندگی کی طرح"
اسی نے اپنے پرائے سے روشناس کیا
فریب بھی تو جہاں میں ہے آگہی کی طرح
ہر اک اناؤں میں خود کو خدا سمجھتا ہے
ملے کوئی تو مجھے عام آدمی کی طرح
تخلیات کی دنیا حسین ہے یوں بھی
وہ میری یاد میں شامل ہے دلکشی کی طرح
یہ پستیاں ہیں فراز و قرار کا محور
نہاں اسی میں بلندی ہے برتری کی طرح
بہار ایسی عطا ہو ہر ایک مفلس کے
اداس لب پہ سجے جو یہاں ہنسی کی طرح
غزل تھی بحر سے خارج مِری مگر شہزاد
سمائی پھر بھی ترنم میں نغمگی کی طرح
شہزاد حیدر
No comments:
Post a Comment