تمہارا فوٹو سجایا ہوا ہے کمرے میں
چراغِ ہجر جلایا ہوا ہے کمرے میں
خطوط لکھنے جلانے میں وقت کٹتا ہے
بس اپنا کام بنایا ہوا ہے کمرے میں
یہ دل ہے یادِ نشاطِ وصال میں گْم صم
تِرا خیال سا چھایا ہوا ہے کمرے میں
بلک رہا ہوں کہ آنکھوں سے اشک جاری ہیں
نظر کو چھت سے لگایا ہوا ہے کمرے میں
بہت سے لوگ مجھے گھر پہ ملنے آتے ہیں
پر اپنا آپ چھپایا ہوا ہے کمرے میں
کتابیں، پھول، تراشے، گلاس، سگرٹ، مے
بس ایک میلا لگایا ہوا ہے کمرے میں
میں فکر مند تھا تاخیرِ موت پر فیصل
اب ایک سایہ سا آیا ہوا ہے کمرے میں
فیصل امام رضوی
No comments:
Post a Comment