جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف
اس کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف
میں نے اب تک جتنے بھی لوگوں میں خود کو بانٹا ہے
بچپن سے ہی رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف
ایک طرف مجھے جلدی ہے اس کے دل میں گھر کرنے کی
ایک طرف وہ کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف
یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے، لیکن
تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف
اس کی آنکھوں نے مجھ سے میری خودداری چھینی ورنہ
پاؤں کی ٹھوکر سے کر دیتا تھا میں دنیا ایک طرف
تہذیب حافی
No comments:
Post a Comment