رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی
دُھند میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتی
کیسے دریا کی حفاظت تِرے ذمے ٹھہراؤں
تجھ سے اک آنکھ اگر نم نہیں رکھی جاتی
اس لیے چھوڑ کے جانے لگے سب چارہ گراں
زخم سے عزتِ مرہم نہیں رکھی جاتی
میرے اشکوں کی مدد چاہیۓ بتلاؤ مجھے
کون سے پھول پہ شبنم نہیں رکھی جاتی
ایسے کیسے میں تجھے چاہنے لگ جاؤں بھلا
گھر کی بنیاد تو اک دم نہیں رکھی جاتی
تہذیب حافی
No comments:
Post a Comment