Friday, 10 December 2021

اک لڑکی جب ماں بنتی ہے

 اک لڑکی جب ماں بنتی ہے


جب نور کا جوہر ٹوٹتا ہے

اور کوکھ میں

کونپل پھوٹتی ہے

اور انگ انگ

اک موج نمو کی

زیست کے

موتی رولتی ہے

نبضوں کے چلن میں

رہ رہ کے اک مدھم نبض سی

چلتی ہے

اک مبہم دھڑکن

بولتی ہے

تب الھڑ لوئی کو مٹی کی

کمہار جہاں کا

اپنے تیور

اپنے گن

اور اپنی

شباہت دیتا ہے

چھوٹے سے کوزے میں

دل کے

بھرتا ہے سمندر ڈول ڈول

اور نئی بشارت

دیتا ہے

تب

کچے کورے پنڈے سے

سوندھی مہکاریں

اٹھتی ہیں

سوچوں کی کمسن شاخوں پر

تب

گیان بھرے پات آتے ہیں

اور دان

بہاریں بٹتی ہیں

اک لڑکی

جب ماں بنتی ہے

کمہار جہاں کا آوے میں

تقدیس کی لو بھڑکاتا ہے

اور اپنی بنائی

ہر مورت میں

اس مورت کو

سب سے اونچے طاق پہ دھر کے

مٹی کے اس آئینے میں

اپنا عکس جماتا ہے


نسیم سید

No comments:

Post a Comment