اک لڑکی جب ماں بنتی ہے
جب نور کا جوہر ٹوٹتا ہے
اور کوکھ میں
کونپل پھوٹتی ہے
اور انگ انگ
اک موج نمو کی
زیست کے
موتی رولتی ہے
نبضوں کے چلن میں
رہ رہ کے اک مدھم نبض سی
چلتی ہے
اک مبہم دھڑکن
بولتی ہے
تب الھڑ لوئی کو مٹی کی
کمہار جہاں کا
اپنے تیور
اپنے گن
اور اپنی
شباہت دیتا ہے
چھوٹے سے کوزے میں
دل کے
بھرتا ہے سمندر ڈول ڈول
اور نئی بشارت
دیتا ہے
تب
کچے کورے پنڈے سے
سوندھی مہکاریں
اٹھتی ہیں
سوچوں کی کمسن شاخوں پر
تب
گیان بھرے پات آتے ہیں
اور دان
بہاریں بٹتی ہیں
اک لڑکی
جب ماں بنتی ہے
کمہار جہاں کا آوے میں
تقدیس کی لو بھڑکاتا ہے
اور اپنی بنائی
ہر مورت میں
اس مورت کو
سب سے اونچے طاق پہ دھر کے
مٹی کے اس آئینے میں
اپنا عکس جماتا ہے
نسیم سید
No comments:
Post a Comment