Friday, 7 May 2021

جب دن میں تری یاد کے دھارے نہیں رکتے

 جب دن میں تِری یاد کے دھارے نہیں رُکتے

کیوں رات کے جانے سے ستارے نہیں رکتے

روکوں بھی تو خوابوں میں چلے آتے ہیں اکثر

جاناں! لب و رخسار تمہارے نہیں رکتے

کرنا ہے انہیں کون سی منزل کا تعاقب

یہ خواب جو آنکھوں کے کنارے نہیں رکتے

اب کون کرے بھاؤ کی تکرار یہاں پر

دل والوں کی دنیا میں خسارے نہیں رکتے

چنچل سی ہوئی جاتی ہیں مخمور ہوائیں

گیسو تِرے سو بار سنوارے نہیں رکتے

احساس کی دنیا میں بسا کر تیرا پیکر

پھر کوئی بھی تصویر پکارے، نہیں رکتے

کیا دو گے مِری جان! محبت کا سہارا

بہہ نکلیں تو جذبات کے دھارے نہیں رکتے


نقاش عابدی

No comments:

Post a Comment