جب تک نظر میں تم رہے نظارگی رہی
نُورِ نظر یہ آنکھ تمہیں تاکتی رہی
اک ظلم ہے کہ جینا پڑا ہے تِرے بغیر
زندہ دلی نہیں ہے تو کیوں زندگی رہی
مسرور کر گیا مجھے اپنا بنا کے وہ
مجھ کو تمام عمر عجب بیخودی رہی
اس ماہرو کا اپنی زباں سے لیا تھا نام
میرے سیاہ گھر میں بڑی روشنی رہی
ممنون میں رہا تِرے اکرام کا بہت
سر بھی جھکا رہا، نگہ بھی جھکی رہی
تیرے بنا تھا کون مِری منزل مراد
اک بار میں جو بھٹکا تو آوارگی رہی
یہ مرض ہی تھا ایسا کوئی کرتا کیا علاج
سب چارہ گر تھے ساتھ پہ بیچارگی رہی
جب تک چلا گیا نہ وہ حدِ نظر سے دور
تب تک مِری نگاہ اسے دیکھتی رہی
میں بھی عجیب جستجو میں مبتلا رہا
مل کر بھی ہم سے مجھ کو نہ آسودگی رہی
ساگر تِرے کلام میں کچھ بات تھی ضرور
جانے کے بعد دنیا تجھے ڈھونڈتی رہی
ساگر اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment