Friday, 7 May 2021

محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا

 محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا

متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا

قدم ہے راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی

یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہو جانا

یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو

کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہو جانا؟

بسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے

پہاڑوں کو تو بس آتا ہے جل کر طور ہو جانا

نظر سے دور رہ کر بھی تقؔی وہ پاس ہے میرے

کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہو جانا


تقی عثمانی

No comments:

Post a Comment