محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا
قدم ہے راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہو جانا
یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہو جانا؟
بسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو تو بس آتا ہے جل کر طور ہو جانا
نظر سے دور رہ کر بھی تقؔی وہ پاس ہے میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہو جانا
تقی عثمانی
No comments:
Post a Comment