Saturday, 11 December 2021

آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں

 آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں

جس کی قسمت میں جو گرداب ہیں تقسیم کریں

تم مِرے نام پہ جی لینا میں تم پر مر کر

جینے مرنے کے جو آداب ہیں تقسیم کریں

خشک آنکھوں میں جو مرجھا گئے ان کی کلیاں

آس کے پھول جو شاداب ہیں تقسیم کریں

وہ نگاہیں بھی جو نمناک تھیں وقت رخصت

منتظر اور جو بے آب ہیں تقسیم کریں

دست حالات پہ مکتوب سجا کر سارے

عہد ماضی کے حسیں باب ہیں تقسیم کریں


نقاش عابدی

No comments:

Post a Comment