در کی سنی نہ تم نے دریچے کی گفتگو
آتے ہی کرنے لگ گئے کانٹے کی گفتگو
دنیا تری سمجھ میں نہ آئے، نہ آئیں گے
میں اور میری وقت سے آگے کی گفتگو
کس کو خبر تھی ہو گا وہ یوں مجھ سے ہمکلام
صدیوں پہ پھیل جائے گی لمحے کی گفتگو
کلیوں نے سن کے اپنے بدن چاک کر لیے
بندِ قبا کے کھلنے سے پہلے کی گفتگو
ٹھہرا ہوا ہوں میں انہی قدموں پہ آج بھی
اک دن سنی تھی بس یونہی رستے کی گفتگو
خلوت کی بات یوں سرِ جلوت نہیں ہے ٹھیک
پردے میں آ کے کیجیے پردے کی گفتگو
کیا کیا تصورات میں آتا ہے دیکھیے
سن کر کسی پرائے سے اپنے کی گفتگو
تُو جو زباں سے کہتا ہے قصہ کچھ اور ہے
لیکن، کچھ اور کہتی ہے چہرے کی گفتگو
شبیر نازش
No comments:
Post a Comment