خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا
دل مکمل کبھی تسخیر نہیں ہو سکتا
آج روٹھے ہوئے ساجن نے بلایا ہے مجھے
آج تو کچھ بھی عناں گیر نہیں ہو سکتا
ہو نہ ہو یہ کوئی اپنا ہی کھلا ہے مجھ پر
میرے دشمن کا تو یہ تیر نہیں ہو سکتا
باندھ لے دوست! گِرہ میں یہ مِرا فرمایا
کچھ بھی کر لے تُو، مگر میر نہیں ہو سکتا
کربلا کیلئے مخصوص ہے بس ایک ہی شخص
دوسرا کوئی بھی شبیر نہیں ہو سکتا
شبیر نازش
No comments:
Post a Comment