Sunday, 3 January 2021

خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا

 خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا

دل مکمل کبھی تسخیر نہیں ہو سکتا

آج روٹھے ہوئے ساجن نے بلایا ہے مجھے

آج تو کچھ بھی عناں گیر نہیں ہو سکتا

ہو نہ ہو یہ کوئی اپنا ہی کھلا ہے مجھ پر

میرے دشمن کا تو یہ تیر نہیں ہو سکتا

باندھ لے دوست! گِرہ میں یہ مِرا فرمایا

کچھ بھی کر لے تُو، مگر میر نہیں ہو سکتا

کربلا کیلئے مخصوص ہے بس ایک ہی شخص

دوسرا کوئی بھی شبیر نہیں ہو سکتا


شبیر نازش

No comments:

Post a Comment