Monday, 12 April 2021

آہوں سے اٹھ رہا ہے دھواں آج شام سے

 آہوں سے اٹھ رہا ہے دھواں آج شام سے

بچھڑا ہے کوئی مجھ سے بڑے احترام سے

کر لے مِرے وجود کا انکار ہر جگہ

جانیں گے لوگ پھر بھی تجھے میرے نام

اس واسطے یہ پیڑ اداسی میں غرق ہیں

پنچھی گئے ہوئے ہیں سبھی ایک کام سے

پھربھی یہ برتری تِرے حصے میں آئے گی

گر ہو موازنہ تِرا ماہِ تمام سے


اسد رضا سحر

No comments:

Post a Comment