آہوں سے اٹھ رہا ہے دھواں آج شام سے
بچھڑا ہے کوئی مجھ سے بڑے احترام سے
کر لے مِرے وجود کا انکار ہر جگہ
جانیں گے لوگ پھر بھی تجھے میرے نام
اس واسطے یہ پیڑ اداسی میں غرق ہیں
پنچھی گئے ہوئے ہیں سبھی ایک کام سے
پھربھی یہ برتری تِرے حصے میں آئے گی
گر ہو موازنہ تِرا ماہِ تمام سے
اسد رضا سحر
No comments:
Post a Comment