بڑے اسی کو ہی کہتے ہیں دل لگی مِرے دوست
کسی سے کچھ بھی نہ کہنا ہے زندگی مرے دوست
جہاں میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آیا
کرے جو آ کے تمہاری برابری مرے دوست
بتا رہی ہیں مہکتی فضائیں گلیوں کی
گزر ہوا ہے تمہارا ابھی ابھی مرے دوست
فقط یہ آپ تلک سلسلۂ یاری نہیں
کروں گا آپ کے بچوں کی نوکری مرے دوست
میں اک وظیفہ تمہیں دان کرنے والا ہوں
کشید کرنا اندھیروں سے روشنی مرے دوست
اسد رضا سحر
No comments:
Post a Comment