Thursday, 23 December 2021

محبتوں کے اشارے نہیں سدھار سکے

 محبتوں کے اشارے نہیں سدھار سکے

ہمیں تو وقت کے دھارے نہیں سدھار سکے

یہ چاہتے ہیں زمینوں کو تر بہ تر کرنا

سمندروں کو کنارے نہیں سدھار سکے

مِرے سماج کی تاریکیوں میں پلتے لوگ

جو خود کو خوف کے مارے نہیں سدھار سکے

کریں بھی کیا کہ بدلتی نہیں کبھی فطرت

کہ ہم تو خود کو سدھارے نہیں سدھار سکے

تمہاری یاد کی دولت لٹا رہا ہے دل

اِسے وفا کے خسارے نہیں سدھار سکے

سدھارنے کو جو آئے تھے خود سدھار گئے

ہجوم کو وہ بے چارے نہیں سدھار سکے

میں کیا کروں دلِ تخریب کار کا ذیشاں؟

اسے تو رنج بھی سارے نہیں سدھار سکے


ذیشان ساجد

No comments:

Post a Comment