محبتوں کے اشارے نہیں سدھار سکے
ہمیں تو وقت کے دھارے نہیں سدھار سکے
یہ چاہتے ہیں زمینوں کو تر بہ تر کرنا
سمندروں کو کنارے نہیں سدھار سکے
مِرے سماج کی تاریکیوں میں پلتے لوگ
جو خود کو خوف کے مارے نہیں سدھار سکے
کریں بھی کیا کہ بدلتی نہیں کبھی فطرت
کہ ہم تو خود کو سدھارے نہیں سدھار سکے
تمہاری یاد کی دولت لٹا رہا ہے دل
اِسے وفا کے خسارے نہیں سدھار سکے
سدھارنے کو جو آئے تھے خود سدھار گئے
ہجوم کو وہ بے چارے نہیں سدھار سکے
میں کیا کروں دلِ تخریب کار کا ذیشاں؟
اسے تو رنج بھی سارے نہیں سدھار سکے
ذیشان ساجد
No comments:
Post a Comment