Thursday, 23 December 2021

میں اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والی

 میں اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والی

کبھی توہین محبت نہیں کرنے والی

مجھ کو نذرانۂ دل پیش نہ کیجے صاحب

ہر کسی سے میں محبت نہیں کرنے والی

جو شرافت کی حدوں میں کبھی رہتے ہی نہیں

ایسے لوگوں کی میں عزت نہیں کرنے والی

تُو نے دل توڑ دیا💔 کر دیا محرومِ وفا

پھر بھی میں تیری شکایت نہیں کرنے والی

خونِ مظلوم سے جو پیاس بجھائیں اپنی

میں کبھی ان کی حمایت نہیں کرنے والی

میرے دل نے جسے چاہا وہی سب کچھ ہے مِرا

میں محبت کی تجارت نہیں کرنے والی

اے انا! میری طبیعت میں ہے شوخی لیکن

دل شکن کوئی شرارت نہیں کرنے والی


انا دہلوی

No comments:

Post a Comment