مشکلوں میں رہ کے اب ہر خوشی نہیں ملتی
زندگی تو ملتی ہے،۔ پر بھلی نہیں ملتی
جب سے مل گئی دولت بھول بیٹھے یوں رب کو
ان کی اب دعاؤں میں عاجزی نہیں ملتی
پھر رہا ہے بن کے تُو قوم کا مسیحا جو
تجھ میں کچھ بزرگوں سی سادگی نہیں ملتی
بیٹھ کر جو کرتے ہیں محفلوں میں لفاظی
قول میں بھی اب ان کے دلکشی نہیں ملتی
دیکھنے میں لگتے ہیں جو بہت ہی بھولے سے
لب جو ان کا وا ہوتا کچھ ہنسی نہیں ملتی
شکر رب کی نعمت کا جو سدا نہیں کرتے
ان کو رب کی دولت بھی دائمی نہیں ملتی
جان بھی اگر عالم! تم انہیں ہبہ کر دو
ظالموں کی آنکھوں میں کچھ نمی نہیں ملتی
عالم فیضی
No comments:
Post a Comment