Thursday, 23 December 2021

سنتا ہے میرے ہمنشیں کہتی ہے یہ بہار کیا

 سنتا ہے میرے ہم نشیں کہتی ہے یہ بہار کیا

پھولوں سے دوستی نہ کر پھولوں کا اعتبار کیا

بازئ دل کی مات پر بڑھ گئے اور حوصلے

حُسن کی جیت جیت کیا، عشق کی ہار ہار کیا

حُسن پہ ناز کیجئے، آپ مگر نہ بھولیۓ

حُسن تو چڑھتی دھوپ ہے دھوپ کا اعتبار کیا

دے کے چمن کو اپنا خوں مانگتا کب ہوں خوں بہا

میں ہوں بہار کے لیے، میرے لیے بہار کیا

لذتِ انتظار میں کھو گئے ہم تو اے ندیم

اپنا بھی انتظار ہے، ان کا ہی انتظار کیا

دل میں ہے انور آج بھی آتشِ غم سے روشنی

ملتی ہے اس مقام پر سرحدِ نور و نار کیا


انور شادانی

No comments:

Post a Comment