آدھی رات ہے
تین 3 بجے ہیں
اس کی یاد آوارہ ہو کر
کتنی گلیوں، سڑکوں پر سے
جنگل، بیلے، رستوں پر سے
ہوتے ہوتے آ پہنچی ہے
میری نیند کو غارت کرنے
کتنے سالوں بعد تو میں نے
چین سے سونا شروع کیا تھا
مگر کہاں جی ان کو ذرا بھی
میری نیند گوارہ نہ تھی
یہاں پہ میری نیند اڑی ہے
ظالم چین سے سویا ہو گا
اس نے مجھ کو کیا کھونا تھا
میں نے اس کو کھویا ہو گا
انعمتا علی
No comments:
Post a Comment