Thursday, 20 January 2022

میں کہہ رہا ہوں اسے بتاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

 میں کہہ رہا ہوں اسے بتاؤ؛ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

غزال آنکھوں کو مت چھپاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

تمہیں خبر ہے تمہارے ہونٹوں کا تل بھی شاید اداس ہو گا

زرا سا تم بھی تو مسکراؤ، تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

طویل مدت سے سن رہا ہوں تمہارے قدموں کی چاپ میں بھی

تمہیں قسم ہے کہ لوٹ آؤ، تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

یہ خواہش ِ وصل جانے کب سے ہمارے دل میں مچل رہی تھی

سو جب بھی آؤ گلے لگاؤ، تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

چلا گیا ہے تو کیا ہوا ہے تم اس کی خاطر حسین لڑکی

یہ اشک اپنے نہ یوں بہاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے


علی اسد

No comments:

Post a Comment