Sunday, 13 March 2022

جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے

 اضطراب


کتنی ہی سوئی دوپہروں میں

کتنی ہی جلتی راتوں میں

ہر خواب ادھورا

مڑ مڑ کر

جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے

کچھ بھیگے پل

بوجھل قدموں کی چاپ لئے

حیران پریشاں

پوچھتے ہیں

یہ موڑ کہاں تک جاتا ہے

کچھ بے ہنگم سی تصویریں

دھندلی دھندلی

بے ڈول سے کچھ لمبے سائے

ویران ہمکتی تنہائی

امید کے روشندانوں سے

کیا منظر دیکھا کرتی ہے

سناٹے کے اس شور میں بھی

موہوم سی ایک امید کبھی

کروٹ کروٹ خود سے پوچھے

آواز ابھی جو گونجی تھی

وہ بانگ جرس تھی

یا کوئی

پازیب کہیں ٹکرائی ہے


سلمان انصاری

No comments:

Post a Comment