Monday, 10 August 2020

اتنی وحشت ہو رہی ہے کیوں در و دیوار سے

خوش بہت آتے ہیں مجھ کو راستے دشوار سے
سر  پھرا ہوں میں نہیں ڈرتا کسی دیوار  سے
خشک آنکھوں سے میں تکتا ہوں کنارے کی طرف
مجھ کو "سیرابی" بلاتی ہے "سمندر" پار سے
کیا مرا گھر بھی نہیں حق میں کہ میں تنہا رہوں
اتنی وحشت ہو رہی ہے  کیوں در و دیوار سے
تم بھی اب کچھ اور سوچو اس محبت کے سوا
میں بھی اب اکتا گیا ہوں ایک ہی آواز سے
رات بھر اس شہر میں وہ سانحے ہوتے ہیں زیب
دل دہل اٹھتا ہے میرا صبح کے اخبار سے

 زیب اورنگ زیب

No comments:

Post a Comment