نمک کی روز مالش کر رہے ہیں
ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں
سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے
کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں
ہماری پیاس کو "رانی" بنا لیں
مِرے صحرا سے جو بادل اٹھے تھے
کسی دریا پہ "بارش" کر رہے ہیں
یہ سب پانی کی خالی بوتلیں ہیں
جنہیں ہم نذرِ آتش کر رہے ہیں
بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا
"کہ "پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں
تِری تصویر،۔ پنکھا،۔ میز،۔ مفلر
مِرے کمرے میں گردش کر رہے ہیں
فہمی بدایونی
No comments:
Post a Comment