Monday, 10 August 2020

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں
ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں
سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے
کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں
ہماری پیاس کو "رانی" بنا لیں
کئی "دریا" یہ کوشش کر رہے ہیں
مِرے صحرا سے جو بادل اٹھے تھے
کسی دریا پہ "بارش" کر رہے ہیں
یہ سب پانی کی خالی بوتلیں ہیں
جنہیں ہم نذرِ آتش کر رہے ہیں
بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا
"کہ "پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں
تِری تصویر،۔ پنکھا،۔ میز،۔ مفلر
مِرے کمرے میں گردش کر رہے ہیں

فہمی بدایونی

No comments:

Post a Comment