Wednesday, 9 November 2016

ستم کچھ اور بھی اے جاں کہ جی بھرا ہی نہیں

 ستم کچھ اور بھی اے جاں کہ جی بھرا ہی نہیں

یہ ٹوٹنے کی صدا، عذرِ بے گناہی نہیں

جو مجھ کو چھوڑ گیا، اتنا بے خبر تو نہ تھا

جو ہم سفر ہے میرا، درد جانتا ہی نہیں

عجیب دِن تھے کہ سب تھے زمیں سے وابستہ

کسی کی آنکھ میں خوفِ فراق تھا ہی نہیں

بکھر گیا ہوں تو وہ سنگ زن، بہ زعمِ وفا

سمیٹتا ہے مجھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں

نظر کے سامنے اک خواب کا سا منظر ہے

ہوا پکارتی ہے،۔۔ دشت بولتا ہی نہیں 

ہے تہ نشیں کوئی شے جاں میں درد کی صورت

سمندر اپنے خزانے اچھالتا ہی نہیں


ڈاکٹر توصیف تبسم

No comments:

Post a Comment