فرصتِ دید، ایک ساعت ہے
اور پھر عمر بھر کی حیرت ہے
وہ مسافر یہاں بھی ٹھہرا تھا
داغِ دل، نقشِ پائے حسرت ہے
ٹوٹتے جسم کی عمارت کو
سنگِ بنیاد کی ضرورت ہے
کتنے پتھر ہیں تہ میں دریا کی
دیکھ کر سطحِ آب، حیرت ہے
سینے میں تیغ سی رواں ہے تو کیا
ہر نفس، دم بہ دم غنیمت ہے
مِژۂ خوں چکاں سے مت لکھیے
دل میں جو درد کی حکایت ہے
ڈاکٹر توصیف تبسم
No comments:
Post a Comment