Wednesday, 9 November 2016

مکیں گم ہیں مکاں خالی پڑے ہیں

 مکیں گم ہیں، مکاں خالی پڑے ہیں

زمین و آسماں خالی پڑے ہیں

جہاں رہتے تھے ہم تتلی کی صورت

وہ سارے گلستاں، خالی پڑے ہیں

پرندے کر گئے ہجرت یہاں سے

وہ دیکھو، آشیاں خالی پڑے ہیں

کبھی آباد تھے دل کے گھروندے

مگر اب جسم و جاں خالی پڑے ہیں

سکوت آباد ہے دیوار و در میں

کہیں کیونکر مکاں خالی پڑے ہیں

یہ رستے کس کا رستہ دیکھتے ہیں

بیادِ رفتگاں، خالی پڑے ہیں


ڈاکٹر توصیف تبسم

No comments:

Post a Comment