Wednesday, 9 November 2016

کوئی منزل ہے نظر ميں نہ ٹھکانہ طے ہے

کوئی منزل ہے نظر ميں نہ ٹھکانہ طے ہے 
پھر بھی کل صبح يہاں سے مِرا جانا طے ہے
ابھی کچھ اور مسائل ہيں، جو لاحق ہيں ہميں 
تجھ سے ملنے کو کوئی اور زمانہ طے ہے
کئی کردار کہانی سے نکل جاتے ہيں 
کوئی قصہ ہے مکمل، نہ فسانہ طے ہے
اور جو کچھ بھی ملا اس پہ مِرا حق ہی نہيں 
ميری اوقات، مِرے حصے کا دانا طے ہے
ميں کسی خواب کو رخصت نہيں ہونے دوں گا 
طے ہے يہ بات مِری جان! کہا نا، طے ہے
پھڑپھڑاتا ہے پرندہ سا جو اک سينے ميں 
اس پرندے کو بھی اک روز اڑانا طے ہے
ہاتھ ميں تير و کماں بھی ہيں، نظر بھی ہے بحال 
دير کس بات کی سالکؔ، جو نشانہ طے ہے

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment