کوئی منزل ہے نظر ميں نہ ٹھکانہ طے ہے
پھر بھی کل صبح يہاں سے مِرا جانا طے ہے
ابھی کچھ اور مسائل ہيں، جو لاحق ہيں ہميں
تجھ سے ملنے کو کوئی اور زمانہ طے ہے
کئی کردار کہانی سے نکل جاتے ہيں
اور جو کچھ بھی ملا اس پہ مِرا حق ہی نہيں
ميری اوقات، مِرے حصے کا دانا طے ہے
ميں کسی خواب کو رخصت نہيں ہونے دوں گا
طے ہے يہ بات مِری جان! کہا نا، طے ہے
پھڑپھڑاتا ہے پرندہ سا جو اک سينے ميں
اس پرندے کو بھی اک روز اڑانا طے ہے
ہاتھ ميں تير و کماں بھی ہيں، نظر بھی ہے بحال
دير کس بات کی سالکؔ، جو نشانہ طے ہے
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment