Wednesday, 9 November 2016

بھونچال کی شدت سے زمیں کانپ رہی ہے

بھونچال کی شدت سے زمیں کانپ رہی ہے
اپنی ہے شقاوت سے زمیں کانپ رہی ہے
اس بار تو جمتے ہی نہیں فرش پہ پاؤں
اس بار تو فرصت سے زمیں کانپ رہی ہے
اس بار تو کی وقت نے کچھ ایسی جراحت
زخموں کی اذیت سے زمیں کانپ رہی ہے
خود ہی تو کیا شہرِ مناجات کو مسمار
اب دشت کی وحشت سے زمیں کانپ رہی ہے
بے گور و کفن لاشے، فغاں کرتے ہوئے لوگ
احساسِ ندامت سے زمیں کانپ رہی ہے
یا بوجھ گناہوں کا سنبھالا نہیں جاتا
یا خوفِ قیامت سے زمیں کانپ رہی ہے
تکتا ہے فلک ماتھے پہ بل ڈال کے سالکؔ
سہمی ہوئی، دہشت سے زمیں کانپ رہی ہے

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment