بھونچال کی شدت سے زمیں کانپ رہی ہے
اپنی ہے شقاوت سے زمیں کانپ رہی ہے
اس بار تو جمتے ہی نہیں فرش پہ پاؤں
اس بار تو فرصت سے زمیں کانپ رہی ہے
اس بار تو کی وقت نے کچھ ایسی جراحت
خود ہی تو کیا شہرِ مناجات کو مسمار
اب دشت کی وحشت سے زمیں کانپ رہی ہے
بے گور و کفن لاشے، فغاں کرتے ہوئے لوگ
احساسِ ندامت سے زمیں کانپ رہی ہے
یا بوجھ گناہوں کا سنبھالا نہیں جاتا
یا خوفِ قیامت سے زمیں کانپ رہی ہے
تکتا ہے فلک ماتھے پہ بل ڈال کے سالکؔ
سہمی ہوئی، دہشت سے زمیں کانپ رہی ہے
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment