Tuesday, 8 November 2016

نظر بد کے لیے تو نے جو باندھا تعویذ

نظرِ بد کے لیے تُو نے جو باندھا تعویذ
ڈال کر بانہیں تِرے گلے سے لپٹا تعویذ
عشق کے جِن کا اثر جن پہ ہوا پھر نہ بچے
اس بلا پر نہیں چلتا کوئی گنڈا تعویذ
نہیں آتا نہیں آتا وہ کسی صورت سے
نہیں ملتا، نہیں ملتا، کوئی چلتا تعویذ
عالمو! دردِ جدائی بھی کہیں مٹتا ہے
مفت میں ہار گلے کا مِرے ہو گا تعویذ
اس کے جوبن پہ تصدق ہیں ہزاروں عاشق
نقشِ تسخیر ہے اے بت! تِرے سر کا تعویذ
مرنے والے تِرے پھر کس لیے بے چین رہیں
ہو تِرا نقشِ کفِ پا جو لحد کا تعویذ
دیکھنا دیدۂ بسمل کا ہنسی کھیل نہیں
باندھ لے پہلے ذرا آپ نظر کا تعویذ
آہِ پر سوز تِری شعلہ فشانی دیکھوں
غیر نے میرے جلانے کو جلایا تعویذ
نہ ہوا پر نہ ہوا آہ، حسؔن کو آرام
ہم نے دنیا میں نہ چھوڑا کوئی گنڈا تعویذ

حسن رضا بریلوی

No comments:

Post a Comment