تم بھی ہو خنجرِ خوشآب بھی ہے
اور یہ خانماں خراب بھی ہے
وہ بھی ہے ساغرِ شراب بھی ہے
چاند کے پاس آفتاب بھی ہے
بولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر
پوچھے جاتے ہیں یہ ہم سب سے
مجلسِ وعظ میں شراب بھی ہے
دیکھ آؤ مریضِ فرقت کو
رسمِ دنیا بھی ہے ثواب بھی ہے
حسن رضا بریلوی
No comments:
Post a Comment