Tuesday, 8 November 2016

تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہے

تم بھی ہو خنجرِ خوشآب بھی ہے
اور یہ خانماں خراب بھی ہے
وہ بھی ہے ساغرِ شراب بھی ہے
چاند کے پاس آفتاب بھی ہے
بولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر
ارے کمبخت! کچھ حساب بھی ہے
پوچھے جاتے ہیں یہ ہم سب سے
مجلسِ وعظ میں شراب بھی ہے
دیکھ آؤ مریضِ فرقت کو
رسمِ دنیا بھی ہے ثواب بھی ہے

حسن رضا بریلوی

No comments:

Post a Comment