منزلیں کچھ اور ہیں اور رہگزر کچھ اور ہے
آبلے کچھ اور ہیں، لطفِ سفر کچھ اور ہے
تیری نظروں میں ہے سورج میری نظروں میں شرر
مجھ پہ ظاہر اور ہے،۔ تیری نظر کچھ اور ہے
آپ پر قربان ہوں بزمِ طرب کی رونقیں
لذتِ گِریہ الگ ہے،۔ خواہشِ گِریہ الگ
درد دل کے اور ہیں زخمِ جگر کچھ اور ہے
ؔبے سبب سمجھو نہ تم آہ و فغاں میری اسد
آہ میری اور ہے اس کا اثر کچھ اور ہے
اسد لکھنوی
No comments:
Post a Comment