کچھ سوچ مِرے یار، خدا دیکھ رہا ہے
اس طرح نہ کر وار، خدا دیکھ رہا ہے
یہ مولوی واعظ سے تو کافر ہی بھلے ہم
یوں دین کا پرچار، خدا دیکھ رہا ہے
کب کم ہیں کسی سے یہ فراعینِ زمانہ
وسعت ہے مِری اتنی کہ کنکر بھی گراں بار
اور درد کے انبار، خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھ رہا ہوں سبھی شہکار خدا کے
اور میرے یہ شہکار خدا دیکھ رہا ہے
کہتا ہوں اسؔد سچ میں کُنَش ہیں جو بنے ہیں
سب صاحبِ کردار، خدا دیکھ رہا ہے
اسد لکھنوی
No comments:
Post a Comment