Friday, 24 July 2020

تیرے آفاق بھی ہیں حیرت میں

تیرے آفاق بھی ہیں حیرت میں
رمز کیا ہے مِری حقیقت میں
تُو کہاں سے پکارتا ہے مجھے
میں تجھے ڈھونڈتا ہوں خلقت میں
ہم نہ اپنے دِیے🪔 بجھائیں گے
کچھ بھی ہو رات کی مشیت میں
کوئی پہرا نہیں فصیلوں پر
شہر اندر سے ہے حراست میں
ایک دنیا ہے تیرے ساتھ، مگر
کس کا دل ہے تِری رفاقت میں
منہ چھپائے پھِریں گے سورج سے
جو ستارے ہیں شب کی خلعت میں
سن صدا ممکنات کی یوسف
کھول پر آسماں کی وسعت میں

یوسف حسن

No comments:

Post a Comment