Friday, 4 December 2020

مارگلہ اور تم اور میں

 مارگلہ اور تم اور میں


کوئی پھولوں بھرا جنگل تھا

بھاری خوشبوؤں والا

کسی وادی میں ٹھنڈی سبز رنگت گر رہی تھی

دل بھی گہرائی میں گرتا تھا

گھنے پتوں کے گھیرے دار گہرے سبز بادل تھے

جہاں تنہا کرن نے خود کو ہی رستہ بنایا

خود ہی اس پر سات رنگا جسم لے کر چل پڑی

آنکھوں پہ اتری، پتلیوں کے پار پہنچی

تو وہاں میں دیکھ پایا تم کو اور خود کو

ہمارا رنگ دھانی تھا

جمالِ رنگ نغمہ ریز تھا

ہم سن رہے تھے

وہ عجب رنگوں بھرا سپنا تھا

جس میں چل رہے تھے ہم

ہوا چلتی تو میرے دل سے کوئی بات لے لیتی

تمہارے دل میں رکھ دیتی

تمہاری آنکھ سے جو رنگ اڑتا

وہ مری آنکھوں میں آ جاتا

وہ اک پھولوں بھرا سپنا تھا

جس میں چل رہے تھے ہم

مگر اب دیکھتے ہیں

چار جانب دھوپ میں جلتا زمانہ ہے

زمانے کی بہت بے رنگ سڑکیں ہیں

ہم ان پر بھاگتے ہیں اور خود کو مل نہیں پاتے

نجانے تم کہاں گم ہو؟

نجانے میں کہاں گم ہوں؟


شہزاد نیر

No comments:

Post a Comment