Friday, 4 December 2020

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج

 سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج

چائے کا ایک گھونٹ بھی کافی رہا ہے آج

دریا کو کھینچ لانے دے صحرا کے درمیان

مٹکا غریب زادی کا پیاسا پڑا ہے آج

کس نے کہا ہے، خیر ہے میں تو نہیں گرا

وہ تو شجر سے آخری پتا گرا ہے آج

دل بت کدہ رہا تو، تُو پہلو نشین تھا

کعبہ بنا تو تیری جگہ پہ خدا ہے آج

جھگڑا ہوں بدگمان سے، چیخا ہوں فون پر

یہ ساتواں تھا فون، جو توڑا گیا ہے آج

دستک سمجھ کے در پہ تو یوں دوڑ کے نہ جا

کل بھی ہوا کا کام تھا، پھر بھی ہوا ہے آج

راہب زبان پہ مری چھالے سے پڑ گئے

دیکھا جو در پہ یار کے تالا پڑا ہے آج


عمران راہب

No comments:

Post a Comment