سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج
چائے کا ایک گھونٹ بھی کافی رہا ہے آج
دریا کو کھینچ لانے دے صحرا کے درمیان
مٹکا غریب زادی کا پیاسا پڑا ہے آج
کس نے کہا ہے، خیر ہے میں تو نہیں گرا
وہ تو شجر سے آخری پتا گرا ہے آج
دل بت کدہ رہا تو، تُو پہلو نشین تھا
کعبہ بنا تو تیری جگہ پہ خدا ہے آج
جھگڑا ہوں بدگمان سے، چیخا ہوں فون پر
یہ ساتواں تھا فون، جو توڑا گیا ہے آج
دستک سمجھ کے در پہ تو یوں دوڑ کے نہ جا
کل بھی ہوا کا کام تھا، پھر بھی ہوا ہے آج
راہب زبان پہ مری چھالے سے پڑ گئے
دیکھا جو در پہ یار کے تالا پڑا ہے آج
عمران راہب
No comments:
Post a Comment