تمہیں یاد ہے ناں
تمہاری ہنسی پہ زمانہ فدا تھا
میں اکثر تمہیں یہ بتاتا تھا ناں کہ
تمہاری ہنسی اِس جہاں کی نہیں ہے
بھلا کوئی لڑکی ہنسے تو کہاں یہ لگے گا
کہ مندر کی سب گھنٹیاں بج اٹھی ہوں
مگر تم جہاں اور جب بھی ہنسا کرتی تھیں
ایسا لگتا
میں ہر مرتبہ تم سے ملتا تو چپکے سے بس گنتا رہتا
تمہیں یہ گماں بھی نہیں ہو گا
پچھلی ملاقات میں تم ہنسی تھی تو میں نے
تمہارے سبھی قہقہے گِن لیے تھے
ستائیس جگہ تم ہنسی تھی تو گالوں پہ ڈِمپل پڑے تھے
تمہیں یہ بتاؤں
کہ اب تک کی ساری ملاقاتوں میں سب سے زیادہ اسی بار کُھل کر ہنسی تھی
مگر علم تھا ہی نہیں کہ جدائی کی ڈائن تمہاری ہنسی دیکھتی تھی
مجھے یہ خبر ہی کہاں تھی؟
تمہارے مقدس لبوں پر ہنسی کے کِھلے پھولوں کو اب کبھی بھی نہیں گننا ہو گا
تمہیں عمر بھر اب نہیں ملنا ہو گا
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment